تقلید کی ضرورت و اہمیت

  • تقلید کی حقیقت
  • چاروں ائمّہ میں سے کسی ایک کی تقلید کیوں واجب ہے؟
  • صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے زمانہ میں تقلید کیوں نہیں ہوئی؟
  • چاروں ائمّہ کے علاوہ کسی اور امام کی تقلید اب کیوں نہیں ہوسکتی ؟


سوال: 
تقلید کی حقیقت اور اس کے ضروری ہونے پر دلائل بیان کردیجئے؟

جواب: ایک سمجھدار بچّہ بھی یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ایسا شخص جو بالکل جاہل اور اَن پڑھ ہے اور اسے اپنے کام سے فرصت بھی نہیں ہے کیا وہ یہ اہلیت و استطاعت رکھ سکتاہے کہ کتابیں پڑھ کر ہی خود کوئی مسئلہ معلوم کر لے، کجا یہ کہ وہ براہِ راست قرآن وحدیث سے مسئلے نکالے اور اس پر عمل کرے۔ہر عاقل کے نزدیک اس کا جواب یقیناً نفی میں ہوگا۔ لامحالہ وہ جاہل شخص کسی عالم سے پوچھے گا۔ وہ عالم اگر خود قرآن و حدیث سے مسائل نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتا تو وہ اسے ان کتب سے پڑھ کر بتائے گا جس میں کسی عالمِ مجتہد کے اَخذ و مرتب کردہ مسائل لکھے ہوں گے، اور اس مجتہد عالم نے وہ مسائل قرآن و سنّت ہی سے نکال کر بیان کئے ہوں گے۔ تو ایک جاہل یا عالمِ غیر مجتہد جو اجتہاد کے ذریعے خود قرآن و حدیث سے مسائل نکالنے کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں رکھتا اس پر یہ ذمّے داری عائد کر دینا کہ وہ خود قرآن و حدیث سے مسائل نکالے اس کے لئے تكليف ما لا يُطاق ہے (یعنی ایسی تکلیف ہے جس کی وہ طاقت و اہلیت ہی نہیں رکھتا)، بلکہ حکمِ قرآنی کے صریح خلاف ہے۔

معمولاتِ شرعیہ سے قطعِ نظر کرتے ہوئے جب ہم روزمَرّہ کے حالات اور اپنے طرزِ زندگی پر نظر کرتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر لمحہ تقلید کے بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں اس میں عوام وخواص،شہری،دیہاتی ہر طبقہ کے لوگ مساوی حصّہ دار ہیں۔ آپ غور کریں کہ ایک بچّہ ہوش سنبھالتے ہی اپنے ماں باپ اپنے مُرَبّی کی تقلید کے سہارے پروان چڑھتا ہے، ایک بیمار اپنے معالج کی تقلید کرکے ہی شفا ء یا ب ہوتا ہے، ایک مستغیث کسی قانون داں وکیل کی تقلید کرکے ہی اپنا حق پاتا ہے ،راستہ سے نابلد ایک راہ رو کسی راستہ بتانے والے کی تقلید کرکے منزلِ مقصود تک پہنچتا ہے، ایک ناخواندہ اپنے مُعلّم کی تقلید ہی سے صاحبِ علم وفضل بنتا ہے ۔صنعت وحرفت سے عاری کسی ماہرِ فن اُستاذ کی تقلید کرکے ہی صنعت کار ہوتا ہے یہ وہ روزمَرّہ کی باتیں ہیں کہ ان سے نہ تو انکار کی کوئی گنجائش ہے اور نہ بَحث وتمحیص کی ۔۔۔۔۔اور یہی تقلید ہے ۔ [1]

 

سوال: چاروں ائمّہ میں سے کسی ایک کی تقلید کیوں واجب ہے جب چاروں حق پر ہیں تو چاروں کی تقلید کی اجازت ہونی چاہئے جب چاہیں جس امام کی تقلید کریں؟

جواب: بلا شبہ چاروں امام(امام ابوحنیفہ، امام مالک ،امام شافعی ، اورامام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہُ عَنْھُمْ اَجْمَعِیْن ) حق پر ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک امام کی پیروی اس لئے ضروری ہے کہ اگر ایسا نہ ہو تو ہر شخص اپنے نفس کی پیروی کرے گا اور جب دل چاہے گا جس امام کا مسئلہ آسان اور نفس کی خواہش کے مطابق اسے محسوس ہوگا اس پر عمل کرلے گااور یہ شریعتِ مطہرہ کا مذاق اڑانا ہے کیونکہ بہت سے مسائل ایسے ہیں کہ بعض ائمّہ کے نزدیک حلال اور وہی مسائل بعض ائمّہ کے نزدیک حرام ہیں اور یہ نفس کا پیرو کارصبح ایک امام کی پیروی کرتے ہوئے ایک مسئلہ کو حرام سمجھ کراس لئے عمل نہ کرے گا کہ اس میں اس کے نفس کا مفاد نہیں ہے اور جب شام کو بلکہ اسی لمحے اس میں اپنا مفاد نظر آئے گاتو دوسرے امام کا مذہب اختیار کرتے ہوئے اسی مسئلہ کو اپنے لئے حلال کر لے گا اور اس طرح فقط خواہشِ نفس کی بنیاد پر احکامِ شرعیہ کو کھیل بناکر پامال کرتا پھرے گا اس لئے انسان کو خواہشِ نفس پر عمل کرنے کے بجائے دین وشریعت پر عمل کرنے کیلئے کسی ایک امام مجتہد کا مُقلّد ہونا ضروری ہے ورنہ وہ فلاح وہدایت ہرگز نہ پاسکے گا ۔

اس کو ایک دُنیاوی مثال سے یوں سمجھیں کہ اگر کسی منزل پر پہنچنے کے مختلف راستے ہوں تو منزل پر وہی شخص پہنچے گا جو ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرے اور جو کبھی ایک راستہ پر چلے ،کبھی دوسرے راستہ پر ،پھر تیسرے پر پھر چوتھے پر تو ایسا شخص راستہ ہی ناپتا رہ جائے گا کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکے گا یہی حال اس شخص کا ہوگا جو کسی ایک امام کی تقلید کا دامن نہ تھام لے بلکہ کسی مسئلہ میں کبھی کسی امام کی پیروی کرے اور کبھی دوسرے کی ،پھر تیسرے کی پھر چوتھے کی تو وہ منزلِ آخرت جو کہ جنّت ہے اس تک نہیں پہنچ سکے گا بلکہ خواہشِ نفس کی خاطر راستہ ناپتا ہی رہ جائے گا اور راہِ منزل سے گم ہوکر گمراہی واندھیرے میں جاپڑے گا۔

 

سوال: اگر تقلید ضروری ہے تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے زمانہ میں تقلید کیوں نہیں ہوئی؟

جواب: صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی ظاہری زندگی میں درپیش مسائل سے متعلق نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم سے اس کا حکم پوچھ لیا کرتے تھے اور بسا اوقات جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم سے سوال کرنا ممکن نہ ہوتا تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اجتہاد کرکے حکمِ شرعی پر عمل فرماتے تھے۔اجتہاد کی اصل مشہور حدیث شریف ہے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے اوّلاً حدیث شریف کا متن اور اس کا ترجمہ ملاحظہ کیجئے۔

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللهُ تَعَالىٰ عَنْهُ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَه إِلَى الْيَمَنِ قَالَ:’’كَيْفَ تَقْضِىْ إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟‘‘ قَالَ: أَقْضِىْ بِكِتَابِ اللهِ قَالَ: ’’فَإِنْ لَّمْ تَجِدْ فِیْ كِتَابِ اللهِ؟‘‘ قَالَ:فَبِسُنَّةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’فَإِنْ لَّمْ تَجِدْ فِیْ سُنَّةِ رَسُوْلِ اللهِ؟‘‘ قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِیْ وَلاَ آلُوْ قَالَ: فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ عَلٰى صَدْرِهٖ وَ قَالَ: ’’أَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللهِ لِمَا يَرْضٰى بِهٖ رَسُوْلُ اللهِ‘‘.(رواه الترمذی و أبو داؤد و الدارمی)

یعنی روایت ہے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہ رسولُ اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے جب انہیں یمن بھیجا تو فرمایا: جب تمہیں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو کس طرح فیصلے کروگے، عرض کیا: اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا، فرمایا: اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ، عرض کیا: تو رسولُ اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کی سنّت سے فیصلہ کروں گا،فرمایا: اگر تم رسولُ اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کی سنّت میں بھی نہ پاؤ، عرض کیا: اپنی رائے سے قیاس کروں گا اور کوتاہی نہ کروں گا، فرماتے ہیں: تب رسولُ اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا(تھپکی دی) اور فرمایا: شکر ہے اس کا جس نے رسولُ اللہ کے رسول کو اس کی توفیق دی جس سے رسولُ اللہ راضی ہیں۔[2] (ترمذی، ابو داؤد،دارمی)(بحوالہ مشکوٰۃ)

مزیدمفتی احمد یارخاں نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ارشاد فرماتے ہیں :صحابۂ کرام کو کسی کی تقلید کی ضرورت نہ تھی وہ تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صحبت کی برکت سے تمام مسلمانوں کے امام اور پیشوا ہیں کہ ائمّہ دین امام اعظم ابو حنیفہ وشافعی وغیرہ وغیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ انکی پیروی کرتے ہیں۔

مشکوٰۃ باب فضائلُ الصحابہ میں ہے:’’أَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ فَبِاَيِّهِمْ إِقْتَدَيْتُمْ إِهْتَدَيْتُمْ‘‘یعنی میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں تم جن کی پیروی کرو گے ہدایت پالو گے۔[3] (’’عليکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين‘‘ تم لازم پکڑو میری اور میرے خلفاءِ راشدین کی سنّت۔[4]

یہ سوال تو ایسا ہے جیسے کوئی کہے ہم کسی کے اُمّتی نہیں کیونکہ ہمارے نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کسی کے اُمّتی نہ تھے تو اُمّتی نہ ہونا سنّتِ رسول اللہ ہے، اس سے یہ ہی کہا جائے گاکہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تو خود نبی ہیں سب آپ کی اُمّت ہیں وہ کس کے اُمّتی ہوتے ہم کو اُمّتی ہونا ضروری ہے ایسے ہی صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ تمام کے امام ہیں ان کا کون مسلمان امام ہوتا۔ نہر سے پانی اس کھیت کو دیا جاوے گا جو دریا سے دور ہو، مُکبّرین کی آواز پر وہی نماز پڑھے گا جو امام سے دور ہو، لبِ دریا کے کھیتوں کو نہر کی ضرورت نہیں ،صفِ اول کے مقتدیوں کو مُکبّرین کی ضرورت نہیں، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ صفِ اوّل کے مقتدی ہیں وہ بلا واسطہ سینۂ پاکِ مصطفےٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فیض لینے والے ہیں ہم چونکہ اس بَحر سے دور ہیں لہٰذا کسی نہر کے حاجتمند ہیں ،پھر سمندر سے ہزار ہا دریا جاری ہوتے ہیں جن سب میں پانی تو سمندر ہی کا ہے مگر ان سب کے نام اور راستے جدا ہیں کوئی گنگا کہلاتا ہے کوئی جمنا، ایسے ہی حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آبِ رحمت کے سمندر ہیں اس سینہ میں سے جو نہر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سینہ سے ہوتی ہوئی آئی اسے حنفی کہا گیا جو امام مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سینہ سے آئی وہ مذہبِ مالکی کہلایا، پانی سب کا ایک ہے مگر نام جُداگانہ اور ان نہروں کی ہمیں ضرورت پڑی نہ کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو جیسے حدیث کی اسناد ہمارے لئے ہے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے لئے نہیں۔[5]

 

سوال: چاروں ائمّہ کے علاوہ کسی اور امام کی تقلید اب کیوں نہیں ہوسکتی ؟

جواب: چاروں ائمّہ میں سے کسی ایک امام کا مُقلّد ہونا ضروری ہے کیونکہ اب حق انہیں چاروں میں منحصر ہے کیونکہ ان ائمّہ اربعہ کے اقوال ہی صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہیں اور صرف انکے مذاہب ہی مُنَقّح ہیں جبکہ سلف میں ائمّہ اربعہ کے علاوہ دیگر مجتہدین کے اقوال نہ تو اسنادِ صحیح کے ساتھ مروی ہیں نہ کتبِ مشہورہ میں جمعیّت کے ساتھ مُدَوَّن ہیں کہ ان پر اعتماد صحیح ہو اور نہ ہی انکے مذاہب مُنَقّح ہیں اسی وجہ سے صرف ائمّہ اربعہ ہی کے مذاہب لائقِ اعتماد وقابلِ عمل ہیں۔

جیسا کہ علامہ سیّد احمد مصری طحطاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں :’’هٰذِهِ الطَّائِفَةُ النَّاجِيَةُ، قَدْ اِجْتَمَعَتِ الْيَوْمَ فِيْ مَذَاهِبِ أَرْبَعَةٍ وَهُمُ الْحَنَفِيُّوْنَ وَالْمَالِكِيُّوْنَ وَالشَّافِعِيُّوْنَ وَالْحَنْبَلِيُّوْنَ رَحِمَهُمُ اللهُ تَعَالٰى وَمَنْ كَانَ خَارِجًا عَنْ هٰذِهِ الْأَرْبَعَةِ فِيْ هٰذَا الزَّمَانِ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْبِدْعَةِ وَالنَّارِ‘‘

یعنی اہلِ سنّت کا گروہِ ناجی اب چار مذہب میں مجتمع ہے وہ حنفی ،مالکی ،شافعی اور حنبلی ہیں، ان سب پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ،آج کے دور میں جو ان چار مذاہب سے خارج ہو بدعتی اور جہنمی ہے۔[6]

 

 


[1] ۔۔۔۔ مقالاتِ شارح بخاری، ۱ / ۲۵۳،ملخصاً ۔

[2] ۔۔۔۔ مشکاة المصابیح، کتاب الامارة والقضاء، باب العمل فی القضاء۔۔۔الخ،۲ / ۱۴،حدیث:۳۷۳۷۔

[3] ۔۔۔۔ مشکاة المصابیح، کتاب المناقب، باب مناقب الصحابة،۲ / ۴۱۴،حدیث:۶۰۱۸۔

[4] ۔۔۔۔ مشکاة المصابیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة،۱ / ۵۳،حدیث:۱۶۵۔

[5] ۔۔۔۔جاء الحق، حصہ اول، ص۳۱۔

[6] ۔۔۔۔ حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار،کتاب الذبائح،۴ / ۱۵۳) (بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنت،حصہ دوم،صفحہ۱۲۸تا۱۳۳۔