تقدیر کا بیان

دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی ،بدی وہ سب اللہ تَعَالٰیکے علمِ ازلی [1] کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللہ تَعَالٰیکے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے۔

سوال: کیا تقدیر کے موافق کام کرنے پر آدمی مجبور ہے؟

جواب:نہیں۔ بندہ کو        اللہ تَعَالٰی نے نیکی ،بدی کے کرنے پر اختیار دیا ہے۔ وہ اپنے اختیار سے جو کچھ کرتا ہے وہ سب اللہ تَعَالٰیکے یہاں لکھا ہوا ہے۔)کتاب العقائد،ص۲۴(

تقدیر کو جھٹلانا :

اس سے مراد یہ ہے کہ اس بات کا انکار کرنا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے بندے پر خیر اور شر مقدر فرما دیئے ہیں، جیسا کہ معتزلہ کا گمان ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ معتزلہ پرلعنت فرمائے کیونکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ بندہ خود اپنے افعال کا خالق ہے۔ چونکہ یہ لوگ تقدیر کے منکرہیں اس لئے ان کا نام قَدْرِیَہ رکھ دیا گیا ان کا کہنا تھا :''اس نام کے اصل حقدار وہ لوگ ہیں جو تقدیر کو اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف منسوب کرتے ہیں۔'' آئندہ آنے والی صریح احادیث اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اقوال ان کے اس فاسد گمان کا رد کرتے ہیں اور حجت اسی میں ہے ان فاسد عقلوں میں نہیں جنہوں نے اسے ان نصوص کی طرف منسوب کیا اور محض اپنے باطل تخیّلات کی بناء پر قرآن وحدیث کی صریح نصوص کو اپنی گندی اور بری عا دت کے مطابق چھوڑ دیا جیسے منکر نکیر کے سوال کا انکار، عذاب قبر، پل صراط، میزان، حوضِ کوثر اور آخرت میں سر کی آنکھ سے دیدارِالٰہی عَزَّوَجَلَّوغیرہ ان چیزوں کا انکار جو کہ بلاشبہ صحیح بلکہ متواتر احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشاد فرمایا :

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ(۴۹)

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے ہرچیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔(پ27، القمر:49)

شانِ نزول:

اکثر مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالٰی کے نزدیک یہ آیت مبارکہ قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی اور اس کی تائیدیہ روایت بھی کرتی ہے :

(1)۔۔۔۔۔۔اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ کفارِمکہ رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ و سلَّم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر تقدیرکےبارےمیں جھگڑنے لگے تو یہ آیاتِ مبارکہ نازل ہوئیں:

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ(۴۷) یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْؕ- ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ(۴۸)اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ(پ27، القمر:47۔49)

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک مجرم گمراہ اوردیوانے ہیں جس دن آگ میں اپنے مونھوں پرگھسیٹے جائیں گے اورفرمایا جائے گا چکھودوزخ کی آنچ بیشک ہم نے ہرچیز ایک اندازہ سے پیدافرمائی۔(تفسیرا لطبری،سورۃ القمر، تحت الآیۃ:۴۶،ج۱۱،ص۵۶۹،ملخصًا))جہنم میں لےجانےوالےاعمال،جلد۱،ص۳۳۰(

تقدیر کے مُنکروں کے بارے میں اَحادیث:

خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے :''بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اچھی، بری تقدیر پر ایمان نہ لے آئے، اس بات پر یقین نہ کرے کہ اسے جو مصیبت پہنچنے والی ہے وہ اس سے خطا نہ ہو گی اور جو اس سے خطا ہونے والی ہے وہ اسے نہيں پہنچ سکتی۔'')جہنم میں لےجانےوالےاعمال،جلد۱،ص۳۴۳(

حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ہر امت میں مجوسی ہوتے تھے اور اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو کہیں گے کہ تقدیر کوئی چیز نہیں ۔ان میں سے کوئی مر جائے تو اس کے جنازے میں شریک نہ ہونا اور جو ان میں سے بیمار پڑے اس کی عیادت نہ کرنا،وہ دجال کے ساتھی ہیں اور اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ انہیں دجال کے ساتھ ملا دے۔[2]

حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بے شک اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالٰی کی تقدیر کا انکار کرتے ہیں ،اگر وہ لوگ بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت نہ کرنا،اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں حاضر نہ ہو نا اور اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو جائے تو انہیں سلام تک نہ کرنا۔[3]

یاد رہے کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تَعَالٰی کی تقدیر پر ایمان لائے اور تقدیر کے بارے میں بحث نہ کرے کہ یہ ایمان کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ تقدیر کی اچھائی اور برائی پر ایمان نہ لائے،اسی طرح جب تک وہ یہ نہ جان لے کہ جو مصیبت اسے پہنچی ہے وہ اس سے ٹلنے والی نہ تھی اور جو مصیبت اس سے ٹل گئی وہ اسے پہنچنے والی نہ تھی۔)صراط الجنان،جلد۹ص۶۱۶،۶۱۷(

تقدیرکےبارے میں15 فرامین مصطفٰے :

حدیْثِ جبریل جو کہ حدیْثِ صحیح ہے اس میں ہے :

(1)حضرتِ سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام  نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی:ایمان کیا ہے؟ارشادفرمایا: تُو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر،اُس کےفرشتوں،اُس کی کتابوں اوراُس کے رسولوں ، مرنے کے بعد اٹھائے جانے اور اچھی بُری تقدیر پر ایمان لائے۔[4]

چھ اشخاص پر خدا و رسول کی لعنت:

(1)رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:چھ شخصوں پرمیں نے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے لعنت فرمائی ہےاور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے:(۱)تقدیر کا منکر(۲)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب میں اضافہ کرنے والا (۳)زبردستی مُسَلَّط ہونے والا (حاکم)(۴)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےحرام کو حلال ٹھہرانے والا(۵)میری آل کےمتعلق وہ باتیں حلال سمجھنےوالاجنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےحرام کیااور(۶)میری سنت کو ترک کرنے والا[5] ۔اس حدیْثِ پاک کی سَنَد صحیح ہے۔ اس حدیْثِ پاک کی سَنَد صحیح ہے۔

﴿3(والدین کانافرمان،تقدیرکامنکراورشراب کاعادی جنت میں داخل نہ ہوگا۔[6]

اس حدیْثِ پاک کی سند میں سلیمان بن عُتبہ نامی راوی کو ضعیف کہا گیا ہے اور ا س حدیث کو محدثین کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔)الکبائرترجمہ بنام76کبیرہ گناہ،ص۱۳۴، ۱۳۵(

اس اُمَّت کے مجوسی:

)4(قَدَرِ یَّہ اس امت کے مجوسی ہیں،اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو،اگرمرجائیں توان کےجنازےمیں شرکت نہ کرو۔[7][8]

اس حدیث کےراوی ثقہ ہیں لیکن یہ حدیث مُنْقَطِع ہے۔

)5(عنقریب میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔[9]

یہ حدیْثِ پاک امام مسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شرط کے مطابق ہے۔ )الکبائرترجمہ بنام76کبیرہ گناہ،ص۱۳۵(

بدعتی کے سلام کا جواب نہ دیا:

امام تِرمِذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے بَطَریقِ صحیح نقل کیاکہ،

)6(ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس آکر عرض کی:فلاں شخص نے آپ کو سلام کہا ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایامجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس نے کوئی بُری بدعت ایجاد کی ہے ۔اگر واقعی اس نے بُری بدعت ایجاد کی ہے تو میرا سلام اس سے نہ کہنا کیونکہ میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے ہوئے سنا:”اس اُمَّت میں بعض لوگوں کو دھنسا دیا جائے گا اوربعض کی صورتوں کو بگاڑ دیا جائے گایا ان پر پتھر برسائے جائیں گے،یہ لو گ تقدیر کے منکر ہوں گے۔“[10])الکبائرترجمہ بنام76کبیرہ گناہ،ص۱۳۵،۱۳۶(

تقدیر پر ایمان لانا لازمی ہے :

)7(بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک چارباتوں پرایمان نہ لائے:(۱)وہ گواہی دےکہ اللہ تَعَالٰیکےسواکوئی عبادت کےلائق نہیں (۲)میں (محمدمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کارسول ہوں اور(۳)وہ مرنےکےبعد اُٹھائےجانےاور(۴)تقدیرپرایمان رکھتاہو[11]۔اس حدیْثِ پاک کوامام تِرمِذی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےروایت کیاہےاوراس کی سَنَدعمدہ ہے۔

)8( اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بنائی ہوئی تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ اس امت کے مجوسی ہیں۔ اگر وہ بیمار ہوجائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرنا اور اگر مرجائیں تو ان کی نماز جنازہ نہ پڑھنا ا ور اگر تم ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرنا۔ اس حدیْثِ پاک کو امام ابوبکر بن ابو عاصمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی مُسْنَد میں ذکر کیا ہے۔

تقدیر کے بارےمیں دیگر احادیث بھی ہیں جنہیں امام ابنِ ابوعا صِمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا ہےلیکن ان احادیث کی اسناد میں کلام ہے۔

)9(اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کسی نبی کو بھی مبعوث نہیں فرمایا مگر یہ کہ اس کی امت میں قَدَرِیَّہ اورمُرجِیَّہ [12]تھے۔بےشک اللہ عَزَّوَجَلَّنے70انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی زبان سے ان پر لعنت فرمائی ہے۔[13]

)10(بروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ تین شخصوں سے کلام نہیں فرمائے گا اور نہ ان کی طرف نظَرِرحمت فرمائے گا اور نہ انہیں پاک فرمائے گا:(۱)تقدیر کوجھٹلانے والا(۲)شراب کا عادی اور (۳)اپنی اولاد سے براء ت ظاہر کرنے والا ۔[14]

)11(ہراُمت میں مجوسی ہیں اور اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو گمان کرتے ہیں کہ تقدیر کچھ نہیں۔[15]

)12(قَدَرِیَّہ اس امت کے مجوسی ہیں۔[16]اِن روایات کے راوی چونکہ ضعیف ہیں اس لئے یہ روایات حجت نہیں ہیں۔

)13(میری اُمت میں سے دو گروہ ایسے ہیں جن کا اسلام میں کچھ حصّہ نہیں ہے:(۱)قَدَرِیَّہ(۲)مُرْجِیَّہ۔[17]

امام ابنِ حِبانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس حدیث کے راوی نِزار بن حَیَّان کے بارے میں کلام کیا ہے۔نِزار کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی اس روایت کو بیان کیا لیکن اُن اَسناد میں بھی ضعیف راوی ہیں ۔چنانچہ،

حضرتِ سیِّدُنا محمد بن بِشْرعَبْدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے سَلَّام بن ابو عَمْرَ ہ سے ، اس نےحضرتِ سیِّدُنا عِکرِمَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے، انہوں نےحضرتِ سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مرفوعاً اس کی مثل روایت کی ہے۔[18]

)14(تقدیر کے بارے میں کلام اس اُمت کے بدترین لوگوں کے لئے مؤخر کیا گیا ہے۔ [19]

(15)ہر کاریگر اور اس کی کاریگری کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پیدا فرمایا ہے۔[20] (الکبائرترجمہ بنام76 کبیرہ گناہ،ص۱۳۶تا ۱۳۸)


[1] ۔۔۔۔ خدا کا قدیم علم جو ہمیشہ سے ہے

[2] ۔۔۔۔ ( ابو داؤد، کتاب السنۃ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ، ۴/۲۹۴، الحدیث: ۴۶۹۲)

[3] ۔۔۔۔ ( ابن ماجہ، کتاب السنۃ، باب فی القدر، ۱/۷۰، الحدیث: ۹۲)

[4] ۔۔۔۔مسلم،کتاب الایمان،باب بیان الایمان والاسلام والاحسان..الخ ،ص۲۱،حدیث :۸

[5] ۔۔۔۔السنة لابن ابی عاصم،باب ما ذکر عن النبی علیہ السلام فی المکذبین بقدراللّٰه...الخ،ص۷۲،حدیث:۳۳۰

[6] ۔۔۔۔السنة لابن ابی عاصم،باب سبعة لعنتهم،ص۷۶،حدیث :۴۶ ۳

[7] ۔۔۔۔مجوسی کا عقیدہ ہے کہ عالَم کے خالق دو ہیں۔ خیر کا خالق یَزدان  اورشرکا اَہْرَمَن یعنی شیطان ایسے ہی قَدَرِیَّہ اپنے کو اپنے اعمال کا خالق مانتے ہیں لہذا مجوس سے بدتر ہوئے کہ وہ صرف دو خالق مانیں اور یہ لاکھوں۔(مراٰۃ المناجیح،۱/ ۱۰۸)

[8] ۔۔۔۔ابو داود،کتاب السنة،باب فی القدر،۴۲۹۴،حدیث :۴۶۹۱

[9] ۔۔۔۔مستدرک حاکم،کتاب الایمان ،باب سیکون فی امتی اقوام یکذبون بالقدر،۱۲۶۹، حدیث:۲۹۲

[10] ۔۔۔۔ترمذی،کتاب القدر،باب:۱۶ ، ۴۶۰ ،حدیث :۲۱۵۹

[11] ۔۔۔۔ترمذی،کتاب القدر،باب ما جاء ان الايمان بالقدر...الخ ، ۴۵۸ ،حدیث :۲۱۵۹

[12] ۔۔۔۔قَدَرِیَّہ کہتے ہیں کہ بندہ خوداپنے افعال کاخالق (پیداکرنے والا)ہے جبکہ جَبْرِیَّہ کے نزدیک بندے کا ہرفعل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فعل ہے یہ بندوں کے لئے کسب نہیں مانتےجبکہ اہْلِ سنت وجماعت اِفراط وتفریط سے بچتے ہوئے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے اورا س کے افعال دونوں کا خالق ہے اوراہلسنت بندوں کے لئےاختیار مانتے ہیں اورجو چیز اس اختیار کے ذریعے واقع ہوتی ہے اُسے ”کسب“ کانام دیتے ہیں۔(الحدیقة الندية، ۱۳۰۴)

[13] ۔۔۔۔السنة لابن ابی عاصم،باب قول النبی :ان المکذبین بالقدر...الخ،ص۷۳،حدیث:۳۳۴

[14] ۔۔۔۔السنة لابن ابی عاصم،باب من قال القدرية فی المنساتحت قدم الرحمٰن،ص۷۵، حدیث:۴۲۲

[15] ۔۔۔۔السنة لابن ابی عاصم،باب قول النبی:ان المکذبین بالقدر...الخ،ص۷۴،حدیث:۳۳۸

[16] ۔۔۔۔السنة لابن ابی عاصم،باب قول النبی ...الخ،ص۷۴،حدیث :۴۰ ۳

[17] ۔۔۔۔ترمذی،کتاب القدر ،باب ماجاء فی القدرية، ۴۵۹،حدیث :۲۱۵۶

[18] ۔۔۔۔ترمذی،کتاب القدر ،باب ماجاء فی القدرية، ۴۵۹،حدیث :۲۱۵۶

[19] ۔۔۔۔معجم الاوسط،۴۳۵۸،حدیث :۶۲۳۳

[20] ۔۔۔۔السنة لابن ابی عاصم،باب :۸۰،ص۸۱،حدیث :۳۶۶