تبرّکات کی تعظیم

سوال:انبیاءِ کرام عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام و اولیاءِ کرام رَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰی کی طرف منسوب اشیاء سے برکت وفائدہ حاصل کرنا کیساہے؟

جواب:انبیاءِ کرام عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام و اولیاءِ کرام رَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰی کی طرف منسوب اشیاء سے برکت وفائدہ حاصل کرنا جائز ہے۔

 

سوال:اس کا کیا ثبوت ہے؟

جواب: اس کے ثبوت میں قرآن و حدیث کی بکثرت نُصوص پیش کی جاسکتی ہیں،چُنانچہ

(۱)تابوتِ سکینہ جس میں حضرت موسیٰ و ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تبرکات تھے ان سے بنی اسرائیل کا برکت و فائدہ حاصل کرنا دوسرے پارے میں موجود ہے۔

(۲)حضرت یوسف عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ وَ الـسَّـلَامکی قمیض مبارک سے حضرت یعقوب عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ وَ الـسَّـلَامکی آنکھوں کا صحیح ہوجانا سورۂ یوسف میں مذکور ہے۔

(۳)حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے بال مبارک، وضوکے بچے ہوئے پانی، ناخنوں کے تراشے، چادر مبارک، تہبند مبارک، پیالہ مبارک، انگوٹھی مبارک سے صحابۂ کرام کا برکت حاصل کرنا بکثرت احادیث سے ثابت ہے۔

 

سوال:کیا قبر میں تبرکات وغیرہ رکھ سکتے ہیں؟

جواب: جی ہاں!قبر کے اندر تبرکات وغیرہ رکھنا جائزوباعثِ ثواب اور میّت کیلئے دفعِ عذاب کا سبب بنتا ہے اور یہ صحابۂ کرام عَـلَيْهِمُ الرِّضْوَانو سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے۔ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وصیّت تھی کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی قمیص مبارکہ،میرے کفن کے نیچے بدن سے متصل رکھنا اور موئے مبارک و ناخن ہا ئے مقدّسہ کو میرے منہ اور آنکھوں اور پیشانی وغیرہ مواضعِ سجود پر رکھ دینا۔[1]

 

سوال:اس ضِمن میں اگر کوئی واقعہ ہو تو بیان فرمادیں ؟

جواب: صحیح بخار ی کی حدیثِ پاک میں ہے حضرت عبداللہ بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی سند کے ساتھ حضرت سہل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے حدیث بیان کی کہ ایک عورت حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں ایک خوبصورت چادر لائی اور عر ض کیا:آپ کو پہننے کیلئے پیش کر رہی ہوں،آپ اس کو تہبند کی صورت میں پہن کر باہر تشریف لائے تو ایک صحابی نے اس چادر کی تحسین کی اور سوال بھی کر لیا تو صحابۂ کرام عَـلَيْهِمُ الرِّضْوَاننے اسے کہا کہ تو نے اچھا نہیں کیا کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے اسے اپنے لئے پسند فرمایا ہے اور یہ بھی تمہیں معلوم ہے کہ آپ سائل کو محروم نہیں فرماتے اس کے باوجود سوال کر لیاتو اس صحابی نے کہا کہ میں نے اس کو پہننے کے لئے نہیں طلب کیا بلکہ اپنے کفن کیلئے سوال کیا ہے، حضرت سہل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ وہ چادر اس سائل کا کفن بنی۔[2](بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنت،حصہ دوم،صفحہ۱۱۰،۱۱۱)


[1] ۔۔۔۔ فتاوی رضویہ، ۹ ۱۱۷ ، ملخصاً۔

[2] ۔۔۔۔ صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب من استعد الکفن ۔۔۔الخ،۱ / ۴۳۱،حدیث:۱۲۷۷،ملخصاً۔