شان اولیاء

  • شان اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی 
  • اااااا

 

قرآنِ کریم کے پارہ 9 سورۂ اَنْفال کی آیت نمبر34 میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے ولیوں کے نیک اور پرہیز گار ہونے کو تاکید کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اشاد فرمایا:

اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ (پ:۹،انفال:۳۴)
ترجَمۂ کنز الایمان: اس کے اولیاء تو پرہیز گار ہی ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ شبِ اسریٰ کے دُولھا، حبیبِ کبریا، مُشکل کُشا و حاجت روا عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے خَلْق کی حاجت روائی کے لیے خاص فرمایا ہے ، لوگ گھبرائے ہوئے اپنی حاجتیں ان کے پاس لاتے ہیں ، یہ بندے عذابِ الٰہی  سے امان میں ہیں ۔  (المعجم الکبیر، الحدیث ۱۳۳۳۴، ج۱۲، ص۲۷۴)

حضرتِ سیدنا ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ مدینۂ منورہ، سردارِ مکۂ مکرّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ، ’’ اللّٰہ تعالیٰ کے تین سو بندے رُوئے زمین پر ایسے ہیں کہ ان کے دل حضرتِ سَیِّدُنا آدم صَفِیَُّّ اللّٰہ  عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے قلبِ اَطہر پرہیں  ۔ اور چالیس کے دِل حضرت سَیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے قلبِ اَطہر پرہیں  ۔ اور سات کے دِل حضرت سَیِّدُنا ابراہیم خلیل اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے قلبِ اَطہر پرہیں اور پانچ کے دل حضرتِ سَیِّدُنا جِبرائیل  عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے قلبِ اَطہر پر ہیں ۔  اورتین کے دل حضرتِ سَیِّدُنا میکائیل عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے قلبِ اَطہر پرہیں ۔ ایک ان میں سے ایسا ہے جس کا دل حضرتِ سَیِّدُنا اِسرافیل عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کے قلبِ اَطہر پرہے ۔ جب اِن میں سے ’’ایک‘‘ وفات پاتا ہے تواللّٰہ تعالیٰ اس کی جگہ ’’تین ‘‘ میں سے ایک کو مقرر فرماتا ہے اور اگر ’’تین‘‘میں سے کوئی ایک وفات پاتاہے تواللّٰہ تعالیٰ اُس کی جگہ ’’پانچ ‘‘ میں سے ایک کواور اگر ’’پانچ‘‘میں سے کوئی ایک وفات پاتاہے تواللّٰہ تعالیٰ اُس کی جگہ ’’سات ‘‘ میں سے ایک کواور اگر ’’سات‘‘میں سے کوئی ایک وفات پاتا ہے تواللّٰہ تعالیٰ اُس کی جگہ ’’چالیس‘‘ میں سے ایک کواور اگران ’’چالیس‘‘ میں سے کوئی ایک وفات پاتاہے تواللّٰہ تعالیٰ اُس کی جگہ ’’تین سو ‘‘ میں سے ایک کواور اگران ’’تین سو‘‘میں سے کوئی ایک وفات پاتاہے تواللّٰہ تعالیٰ اُس کی جگہ عام لوگوں میں سے کسی کو مقرر فرماتا ہے ۔ اِن کے ذریعے (وسیلے )سے زِنْدگی اور موت ملتی، بارِش برستی، کھیتی اُگتی اور بلائیں دُور ہوتی ہیں حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے استفسار کیا گیا، ’’ان کے ذریعے کیسے زندگی اور موت ملتی ہے ؟‘‘فرمایا وہ اللّٰہ تعالیٰ سے اُمت کی کثرت کا سوال کرتے ہیں تو اُمت کثیر ہو جاتی ہے اور ظالِموں کے لئے بددعا کرتے ہیں تو اُن کی طاقت توڑ دی جاتی ہے ، لوگوں سے مختلف قسم کی بلائیں ٹال دی جاتی ہیں ۔ (حلیۃ الاولیاء، ج ۱، ص۴۰، حدیث ۱۶)

Tabligh - Copyright 2021. Designed by Nauthemes