نماز کے بعد ذکر

سوال:کیا نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کرناجائز ہے یا نہیں؟

جواب:نماز کے بعد ذکر کرنا شرعاً جائز ہے۔

 

سوال:اسکی کیا دلیل ہے؟

جواب:حدیث۱:صحیح مسلم میں عبداللّٰہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم سلام پھیر کر بلند آواز سے یہ کلمات پڑھتے تھے: ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاہُ، لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنُ وَلَوْکَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔[1]

حدیث۲:صحیح مسلم میں ہے: حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے:’’فرائض سے فارغ ہو کر بلند آواز سے ذکرُ اللّٰہ کرنا حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے زمانہ میں مُروّج تھا۔‘‘[2]

 

سوال:بلند آواز سے ذکرکرتے ہوئے کیا احتیاط پیشِ نظر رکھی جائے؟

جواب:بلند آواز سے ذکر کرنے میں یہ احتیاط پیشِ نظر رہے کہ سوتے ہوئے لوگوں کی نیند میں خَلل نہ آئے یا نماز ی یا تلاوت کرنے والے کوتشویش نہ ہو۔ (بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنت،حصہ دوم،صفحہ۱۱۶، ۱۱۷)

 


[1] ۔۔۔۔ صحیح مسلم،کتاب المساجد،باب استحباب الذكر بعد الصلاة،ص۲۹۹،حدیث:۵۹۴۔

[2] ۔۔۔۔ صحیح مسلم،کتاب المساجد،باب استحباب الذكر بعد الصلاة، ص۲۹۴،حدیث:۵۸۳۔