اذان و اقامت سے قبل درودِ پاک پڑھنا

سوال:اذان و اقامت سے پہلے یا بعد میں درودِ پاک پڑھنا کیساہے؟

جواب:اذان واقامت سے پہلے یا بعد میں درود و سلا م پڑھنا بالکل جائز اور مستحب ہے۔

 

سوال:اس کا کیا ثبوت ہے؟

جواب: قرآنِ پاک میں فرمانِ باری تعا لیٰ ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ ٢٢،الأحزاب:٥٦)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اللّٰہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے(نبی)پر اے ایمان والو، ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

قرآنِ پاک کی اس آیتِ مبارکہ میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے درودِ پاک پڑھنے کا حکم دیا اور اس میں نہ تو کوئی الفاظ مقرّر فرمائے کہ انہیں الفاظ کے ساتھ درود پڑھو اور نہ ہی کسی وقت کی قید لگائی ہے کہ اِس وقت پڑھو اور اُس وقت نہ پڑھو ۔

حدیث شریف میں ہے :’’جس نے اسلام میں ایک اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کے لیے اس کا اجر ہے اور جو اس پر عمل کریگا اس کااجر ایجاد کرنے والے کو بھی ملے گا۔‘‘[1]

اَلْـحَمْـدُ لـِلّٰـهِ عَزَّوَجَلَّاذان سے قبل درود شریف پڑھنا بھی مسلما نو ں کے اندر رائج ہے اور اگر یہ کسی حدیث شریف سے ثابت نہ بھی ہو تب بھی کارِ ثواب ہے کہ دینِ اسلا م میں جس نے اچھا کام شروع کیا اللّٰہ تَعَالٰی اسے نیک عمل کا ثواب عطافرمائے گا اور جتنے لو گ اس پر عمل کریں گے ان کے برابربھی اس شخص کو ثواب عطا کیا جائے گا ۔

 

سوال:کِن مواقع پر درود شریف پڑھنا مستحب ہے؟

جواب:حضرت علامہ سیّد ابنِ عابدین شامی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِدرود شریف پڑھنے کے مستحب مواقع بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’علماءِ کرام نے بعض مواقع پر درودِ پاک پڑھنے کے مستحب ہونے پر نص فرمائی ہے ان میں سے چند یہ ہیں:روزِ جمعہ اور شبِ جمعہ، ہفتہ اتوار اور سوموار کے دن،صبح و شام،مسجد میں جاتے او ر نکلتے وقت ،بوقتِ زیارت روضۂ اطہر،صفا و مروہ پر،خطبۂ جمعہ کے وقت ،جوابِ اذان کے بعد ،بوقت ِاقامت ،دعا کے اوّل آخِر اور بیچ میں،دعائے قنوت کے بعد،تَلْبِیَہ کہنے کے بعد، کان بجنے کے وقت اور کسی چیز کے بھول جانے کے وقت۔‘‘[2]

 

سوال:بعض لوگ کہتے ہیں کہ اذان و اقامت سے قبل درود شریف نہ پڑھاجائے کہ عوامُ النّاس کہیں درود شریف کو اذان و اقامت کا حصّہ نہ سمجھ لیں،کیا یہ بات درست ہے؟

جواب:اس کا حل یہ نہیں کہ ایک مستحسن کام بند کردیاجائے،علماءِ کرام نے اس کا حل یہ پیش فرمایا ہے کہ اذان واقامت سے پہلے درود میں یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ درود شریف پڑھنے کے بعد کچھ وقفہ کرے پھر اذان یا اقامت کہے تاکہ درود شریف اور اذان واقامت کے درمیان فاصلہ ہو جائے یا درود شریف کی آواز اذان و اقامت کی آواز سے پَست رہے تاکہ دونوں کے درمیان فرق رہے اور درود شریف کو اقامت کا جُزء نہ سمجھیں۔اس طرح اذان واقامت پڑھنے والا خوش نصیب صلوٰۃ و سلام کی برکتوں سے بھی مستفید ہوتا رہے گا۔ (بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنت،حصہ دوم،صفحہ۱۰۸تا۱۱۰)

 

 


[1] ۔۔۔۔ صحیح مسلم،کتاب الزکاة، باب الحث على الصدقة۔۔۔الخ ،ص۵۰۸،حدیث:۱۰۱۷

[2] ۔۔۔۔ ردالمحتار،کتاب الصلاة، مطلب نص العلماء علی استحباب۔۔۔الخ،۲ / ۲۸۱